Welcome to Karachi Development Authority
Mon to Fri - 9am to 5pm
Civic Center, Karachi
info@kda.gos.pk
Click Here
ممبر فنانس ادارہ ترقیات کراچی جناب نوید انور صدیقی کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے نمائندگان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد ادارہ ترقیات کراچی کے متعلقہ شعبہ جات کو Designated Non-Financial Businesses and Professions (DNFBPs) کے تحت لاگو AML/CFT کمپلائنس فریم ورک سے ہم آہنگ کرنا تھا۔اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے جناب نوید علی (ڈپٹی ڈائریکٹر، DNFBPs)، محمد طلحہ اقبال (انسپکٹر، DNFBPs) اور محمد حماد کمبوہ (ایڈمن آفیسر، DNFBPs) نے شرکت کی۔جبکہ ادارہ ترقیات کراچی کی جانب سے سیکریٹری کے ڈی اے ارشد خان، چیف انجینیئر عبد الصمد جملانی، ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ عاطف حسین نقوی، ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ عرفان یوسفزئی، ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس ندیم شبیر، ڈائریکٹر ڈی پی یو ڈی شہاب مانگی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن (آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ) عزیز عباسی، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن لینڈ مینجمنٹ راشد حسین اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ریکوری عارف شاہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے نمائندگان نے ڈی این ایف بی پیز کے تحت لاگو اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررزم (AML/CFT) قوانین، قواعد و ضوابط اور ریگولیٹری ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔پریزنٹیشن میں بالخصوص درج ذیل امور پر روشنی ڈالی گئی: ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں DNFBPs کی حیثیت اور اطلاق Customer Due Diligence (CDD) اور Enhanced Due Diligence (EDD) کی اہمیت Beneficial Ownership کی شناخت اور تصدیق مشکوک ٹرانزیکشنز کی بروقت رپورٹنگ (STRs) ریکارڈ کیپنگ اور رسک بیسڈ اپروچ Targeted Financial Sanctions (TFS) کی پابندی شامل ہے۔مزید برآں، ادارہ ترقیات کراچی کے لینڈ، اسٹیٹ اور ریکوری ڈیپارٹمنٹس کی موجودہ ورکنگ کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ایف بی آر کے AML/CFT فریم ورک سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی تجاویز پیش کی گئیں، تاکہ شفافیت، احتساب اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ممبر فنانس نوید انور صدیقی نے کہا کہ ادارہ ترقیات کراچی میں مالی اور جائیداد سے متعلق لین دین کو AML/CFT تقاضوں کے مطابق شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ادارے کے نظام کو قومی و بین الاقوامی معیارات کے مطابق ڈھالا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ شعبہ جات فوری طور پر DNFBPs کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کے منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔